اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: خانہ کعبہ کے زائرین کو درپیش ایک سوال یہ ہے کہ حج تمتع کے دوران کیا ان کےاعمال اوران کی عبادات اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں یا نہیں؟ ایک زائر کو کیسے پتہ چلےکہ اس کا حج مقبول واقع ہوا ہےکہ نہیں؟ اورحج یا عمرہ کی قبولیت کی کیا علامات ہیں؟ اس سوال کےجواب کے لیےچندنکات پرتوجہ دینا ضروری ہے:
مقبول حج اورحج صحیح میں فرق
صحیح حج وہ حج ہےکہ جو حج کےان احکام کےمطابق انجام دیا جائے کہ جن کا فقہاء کی کتابوں میں ذکرآیا ہے اوران کے تحقق سےمکلف اورمستطیع کی گردن سےحج کا وجوب ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن حج مقبول اس حج کو کہا جاتا ہےکہ صحیح ہونےکی شرائط کے ساتھ ساتھ کمال کی شرائط بھی رکھتا ہو، یعنی وہ اللہ کی بارگاہ اورامام زمانہ علیہ السلام کے نزدیک قبول واقع ہو۔ بےشک اس قسم کا حج ظاہری فریضے اوراخروی ثواب کےعلاوہ حاجی کے لیے بہت زیادہ تربیتی اثرات رکھے گا۔
حج کی قبولیت کی اہمیت
حج کی قبولیت کی اہمیت سےآگاہ ہونے کے لیےاس بارے میں معصومین علیہم السلام کی روایات میں غوروفکرفائدہ مند ثابت ہوگا۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أفضَلُ الأعمال ایمانٌ لا شَکَّ فیه وَ غَزوٌ لا غُلُولَ فیه و حَجُّ مبرورٌ. (1) افضل ترین عمل وہ ایمان ہے کہ جس میں شک وتردید نہ ہو، ایسا جہاد ہے کہ جس میں دھوکہ اورفریب نہ ہو اورایسا حج ہے کہ جو قبول واقع ہو۔ الحَجُّ المَبرُورلَیسَ لَهُ جَزاءٌ إلا الجَنَّهِ (2) حج مقبول کا ثواب جنت کےعلاوہ کچھ نہیں ہے۔ امام سجادعلیہ السلام اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ان کا نام ایسے افراد کی فہرست میں شامل کرے کہ جن کا حج قبول واقع ہو اوران کی زحمت اورکوشش مشکورہو۔أن تَکتُبَنی مِن حُجّاجِ بَیتِکَ الحرام المَبرُور حَجُّهُم المَکشورِ سَعیُهُم...
حج سمیت عبادی اعمال کی قبولیت کی شرائط
۱۔ تقویٰ: قرآن کریم فرماتا ہے: «إنَّما یَتَقَّبَّلُ اللهُ مِنَ المُتَّقین» (مائده/ 27) بتحقیق اللہ تعالیٰ فقط پرہیزگاروں کے اعمال کو قبول کرتا ہے۔
۲۔ عقل: قال الکاظم علیه السلام: قَلیلُ العَمَل مِن العاقِلَ مقبولٌ مُضاعَفٌ و کَثیرُ العَمَلِ مِن أهلِ الهوی و الجَهلِ مَردودٌ. (میزان الحکمه، ح 14334) عقلمند انسان کا تھوڑا سا عمل بھی قابل قبول اوردگنا ہوتا ہے جبکہ جاہل اورہواوہوس کےمالک افراد کا زیادہ عمل قبول نہیں ہوتا ہے۔
۳۔ خلوص نیت: قال علی علیه السلام: إنَّکَ لَن یُتقَبَّلَ من عَمَلِکَ إلاّ ما أخلَصتَ فیه. (میزان الحکمه، ح 14335) تمہارا کوئی عمل قبول نہیں کیا جائےگا مگروہ عمل کہ جسے تم نے اخلاص کے ساتھ انجام دیا ہو۔
۴۔ محمد وآل محمد(ص) کی ولایت کو تسلیم کرنا: قال رسول الله صل الله علیه وآله: الّذی نَفَسُ مُحمّدٍ بیدهِ، لا یَنفَعُ عَبداً عَمَلُهُ إلاّ بمَعرِفَتِنا و وَلایَتِنا)میزان الحکمه، ح 797) قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، ہم اہل بیت علیہم السلام کی ولایت اورمعرفت کے بغیرکسی کا بندے کا عمل اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ قال الصادق علیه السلام : نحن أهلَ البیتَ لا یَقبَلُ اللهُ عَمَلَ عَبدٍ و هُوَ یَشُکُّ فینا. (میزان الحکمه، ح 795) جو شخص اہل بیت میں شک وتردید کرے گا اللہ تعالیٰ اس بندے کے عمول کو قبول نہیں کرے گا۔
حج سمیت عبادی اعمال کی قبولیت کی علامات:
۱۔ سابقہ منفی عادتوں اورگناہوں کی طرف نہ پلٹنا: قال رسول الله صل الها علیه وآله: الحجِّ تَرکُ ما کان علیه العَبدُ مُقیماً مِنَ الذُّنُوبِ (3)حج کی قبولیت کی ایک علامت بندے کا ان گناہوں کو ترک کرنا ہےکہ اس سے قبل جن کو انجام دینےکی اس کی عادت بن چکی تھی۔
۲۔ بندے کا نیک کاموں کوانجام دینےکا ارادہ کرنا کہ جنہیں وہ اس سے قبل انجام نہیں دیتا تھا: جیسے اول وقت نمازپڑھنا، اللہ کی راہ میں خرچ وغیرہ۔
۳۔ اپنےاندرمثبت تبدیلی کومحسوس کرنا اورمستقبل کی زندگی میں نئی پلاننگ کرنا اوراخلاقی فضائل کے حصول کا فیصلہ کرنا۔
۴۔ سابقہ گناہوں اوراخلاقی برائیوں پرپشیمانی اوران کی اصلاح کا پکا ارادہ کرنا۔
۵۔ تمام یا بعض دعاوں کی قبولیت
۶۔ الہی بشارتوں کو دریافت کرنا : جیسے سچا خواب، مخصوص اولیائے الہی سے ملاقات اور اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی کا مشاہدہ کرنا۔
۷۔ دل میں اللہ تعالیٰ اوراس کے اولیائے کی محبت میں اضافہ
۸۔ عبادت، اللہ سےمناجات ، لوگوں کی خدمت اورحج کی دوبارہ ادائیگی کا شوق
مآخذ :
۱. بحار، ج 66، ص 383.
۲. مستدرک، ج 8، ح 9087.
۳. الحجّ و العمره، ح 741
.....
/169